نئی دہلی 10 مئی (ایس او نیوز) سپریم کورٹ نے آج جمعہ کو دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو یکم جون تک 21 دنوں کے لیے عبوری ضمانت دے دی۔ عام آدمی پارٹی (AAP) کے قومی کنوینر کو سات مرحلوں میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے لیے پولنگ ختم ہو نے کے ایک دن بعد یعنی 2 جون کو خودسپردگی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔
مسٹر کیجریوال کو منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے جاری لوک سبھا انتخابات کی مہم کے لیے جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی۔
جسٹس سنجیو کھنّہ اور دیپانکر دتّا پر مشتمل بنچ نے 7 مئی کو مسٹر کیجریوال کی عبوری ضمانت پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔
مسٹر کیجریوال کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 21 مارچ کو مبینہ شراب پالیسی گھوٹالہ سے منسلک منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔ وہ فی الحال عدالتی حراست میں تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
آج سپریم کورٹ میں ضمانت کو لے کر کیا کچھ ہوا، اس کی تفصیلی رپورٹ عدالتی کاروائیوں کے تعلق سے معلومات فراہم کرنے والے معروف انگریزی نیوز پورٹل لائیو لاء میں فراہم کی گئی ہے۔ جس پر دی گئی تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس سنجیو کھنّہ اور دیپانکر دتّا کی بنچ نے کہا کہ عبوری ضمانت کا تفصیلی حکم شام تک اپ لوڈ کر دی جائے گی۔
بنچ نے نوٹ کیا کہ شراب پالیسی کیس اگست 2022 میں درج کیا گیا تھا اور کیجریوال کو تقریبا ڈیڑھ سال بعد یعنی 21 مارچ 2024 کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے گرفتار کیا تھا اور تب سے ہی وہ حراست میں ہیں۔
پہلی بار، بنچ نے 3 مئی کو کجریوال کے لیے عبوری ضمانت کے سوال پر غور کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا (اے ایس جی) راجو کے علم میں لاتے ہوئے، بنچ نے کہا تھا کہ۔ اگر کیجریوال کی سماعت میں تاخیر ہوتی ہے تو وہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر عام آدمی پارٹی کے سربراہ کی عبوری ضمانت پر غور کر سکتی ہے۔ اس کے بعد کی تاریخوں پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور اے ایس جی راجو نے عبوری ضمانت دینے کی شدید مخالفت کی، انہوں نے دلیل دی کہ ای ڈی کے پاس کجریوال کے خلاف "ثبوت" ہیں اور انتخابی مہم کو عبوری ضمانت دینے پر غور کرنے کا معیار نہیں ہونا چاہیے۔
تاہم بنچ نے مشاہدہ کیا کہ وہ ایک منتخب وزیر اعلیٰ کے معاملے سے نمٹ رہا ہے، نہ کہ عادی مجرم سے۔ اور عام انتخابات 5 سال میں صرف ایک بار ہوتے ہیں۔عدالت نے واضح کیا تھاکہ کجریوال کو عبوری طور پر رہائی کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔ البتہ کجریوال کو وزیراعلیٰ ہونے کے ناطے سرکاری فرائض انجام دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ جاری کیس پر اس کا اثر پڑسکتا ہے۔
مذکورہ موقف کو دہراتے ہوئے، ای ڈی نے کل سپریم کورٹ کے سامنے ایک حلف نامہ داخل کیا تھا، جس میں کیجریوال کو عبوری ضمانت دینے کی مخالفت کی گئی تھی۔ آج، سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے عرض کیا کہ خالصتانی سرگرمیوں پر UAPA کیس میں ملزم امرت پال سنگھ نے بھی الیکشن لڑنے کے لیے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ سالیسٹر جنرل نے یہ بھی کہا کہ کیجریوال کو انتخابات کی بنیاد پر ضمانت دینے سے بُرا اثر پڑے گا۔ لیکن جسٹس کھنّہ نے کہا کہ ’’وہ (امرت پال کا معاملہ)بالکل الگ ہے، آپ اُس کا موازنہ منتخب وزیراعلیٰ سے نہیں کرسکتے۔‘‘
سالیسٹر جنرل نے کہا کہ کسی شخص کو انتخابی مہم کے لیے چھوڑنے کی کوئی مثال نہیں ملتی جب وہ خود امیدوار نہ ہو۔ لیکن جسٹس کھنّہ نے کہا کہ ہم اسے 1 جون 2024 تک عبوری ریلیف دینے کا حکم جاری کر رہے ہیں۔ ہم شام تک آرڈر اپ لوڈ کر دیں گے۔جسٹس کھنہ نے یہ بھی کہا کہ ای ڈی کی گرفتاری کو چیلنج کرنے والی کیجریوال کی درخواست پر حتمی دلائل اگلے ہفتے مکمل کئے جائیں گے۔
جسٹس کھنّہ نے کہا کہ "اگست 2022 میں، ED نے ECIR درج کیا تھا لیکن کیجریوال کو مارچ 2024 میں گرفتار کیا گیا۔یعنی ڈیڑھ سال تک گرفتاری نہیں کی گئی، گرفتاری اس کے بعد یا اس سے پہلے بھی ہو سکتی تھی۔ پھر 21 دن یہاں یا وہاں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"
اس موقع پر کیجریوال کی نمائندگی کرنے والی سینئر ایڈوکیٹ اے ایم سنگھوی نے نشاندہی کی کہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج 4 جون کو ہیں، اس لئے مزید مہلت دی جانی چاہئے، لیکن عدالت نے مزید توسیع سے انکار کیا اور کہا کہ "نہیں نہیں، ہم کوشش کریں گے کہ اگلے ہفتے تک دلائل ختم کریں گے اور اگر ممکن ہو تو فیصلہ سنانے کی کوشش کریں گے،"
آخر میں سالیسٹر جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ بنچ کو ضمانت کے لیے ایسی شرائط عائد کرنی چاہئے کہ وہ (کیجریوال ) پریس سے بات نہ کریں اور آخری تاریخ کو خودسپردگی کریں۔ بنچ نے کہا کہ کیجریوال کو 2 جون کو خود سپردگی کرنی ہوگی۔
یاد رہے کہ لوک سبھا انتخابات کے اب تک تین مراحل مکمل ہوچکے ہیں، مزید چار مراحل باقی ہیں، ایسے میں کیجریوال کی عبوری رہائی برسراقتدار حکومت پر زبردست طمانچہ ثابت ہوسکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی دہلی۔ہریانہ کے انچارج دیپک بابریا نے کہا کہ بی جے پی اپوزیشن کو سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کی پوری کوشش کررہی ہے، بھگوا پارٹی نے کیجریوال کو بھی انتخابات کی مہم سے روکنے کی پوری کوشش کی مگر سپریم کورٹ نے ان کی کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ دیپک بابریا نے کہا کہ یہ بی جے پی کی پالیسی ہے کہ تمام اپوزیشن لیڈروں کو سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جائے اور انہیں کسی نہ کسی طریقے سے انتخابی مہم چلانے سے روکا جائے۔ لیکن سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ اس آمریت پر روک ہے جو بی جے پی نے شروع کی تھی، آگے کہا کہ بی جے پی کو ملک بھر میں کراری شکست کا سامنا ہے۔ آج کا عدالت کا یہ فیصلہ ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرے گا۔